نیویارک،11ستمبر(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا)امریکی ریاست فلوریڈا میں میامی اور فورٹ مائرز سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق بحیرہ کریبیین میں وسیع تر تباہی کا باعث بننے کے بعد مقامی وقت کے مطابق اتوار کی صبح اِرما نامی سمندری طوفان میامی کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا، جس کے بعد اس شہر کے کئی علاقے زیر آب آ گئے۔یہ طوفان اتنا تیز تھا کہ اس کی وجہ سے ہزارہا درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، بجلی کی فراہمی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا اور میامی کی گلیاں زیر آب آ گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق اتوار کو قبل از دوپہر تک اس طوفان کی وجہ سے کم از کم 1.6ملین گھروں اور کاروباری عمارات کو بجلی کی فراہمی منقطع ہو چکی تھی جبکہ اِرما کے ساتھ آنے والی تیز ہواؤں کی رفتار بھی 130میل یا 210کلو میٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔یہ طوفان اس قدر شدید تھا کہ اس کے فلوریڈا کے ساحلی علاقوں تک پہنچنے سے پہلے ہی سمندر کے قریبی رہائشی علاقوں میں بہت سے درخت اور عمارات طوفانی جھکڑوں کے باعث ہوا میں جھولنے لگے تھے۔ پھر جب یہ طوفان آیا، تو بہت سے گھروں کی چھتیں تک اڑ گئیں۔
اِرما کی وجہ سے امریکا میں عالمی وقت کے مطابق اتوار کی شام چھ بجے تک کم از کم چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی تھی۔ اس کے علاوہ ایک حاملہ امریکی خاتون ایسی بھی تھی، جسے ان ہنگامی حالات میں اکیلے اور بغیر کسی بھی طبی امداد کے اپنے بچے کو جنم دینا پڑا۔اِرما بحر اوقیانوس سے شروع ہو کر مختلف ممالک میں تباہی پھیلانے والے ان طاقت ور ترین سمندری طوفانوں میں سے ایک ثابت ہوا، جو آج تک دیکھنے میں آئے ہیں۔ امریکی سرزمین سے ٹکرانے سے قبل اس طوفان نے کریبیین کے علاقے میں اور خاص کر کیوبا میں بھی بہت زیادہ تباہی مچائی تھی۔
مجموعی طور پر یہ طوفان بہت سے خطوں میں جامع نوعیت کے قبل از وقت حفاظتی اقدامات کے باوجود دو درجن کے قریب انسانی ہلاکتوں کا باعث بن چکا ہے جبکہ کیوبا میں تو اس طوفان کے ساتھ خشکی تک پہنچنے والی سمندری لہروں کی اونچائی اتوار کے روز 36فٹ یا 11میٹر تک رہی۔اس طوفان کے پیش نظر صرف امریکی ریاست فلوریڈا ہی میں حکام نے ریاست کی ایک تہائی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے کہہ دیا تھا۔ جنوبی فلوریڈا میں اِرما کی تباہ کاریوں کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے جن شہریوں کو اپنے گھر بار چھوڑنا پڑے، ان کی تعداد 6.5ملین بنتی ہے۔